نئی دہلی ،10؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے ریئل اسٹیٹ شعبے کی کمپنی جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (جے اے ایل)سے ملک بھر میں چل رہی ان کی رہائشی منصوبوں کی مکمل تفصیل دینے کو کہا ہے۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے کمپنی کے ڈائریکٹرز کو ان کی ذاتی املاک کو فروخت نہ کرنے کے حکم کو دہرایا گیا ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے جسٹس متر پون شری اگروال کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ جے اے ایل کمپنی سے گھر خریدنے والے گاہکوں کی شکایات کو درج کرنے کے لئے ایک پورٹل انسٹال کریں۔ بنچ میں جسٹس اے ایم کھنولکر اور ڈی وائی چندرچوڑ بھی شامل ہیں۔بنچ نے ریزرو بینک کی درخواست پر بھی کہا کہ اس پر وہ بعد میں فیصلہ کرے گی۔ریزرو بینک نے جے ایل اے کے خلاف این سی ایل ٹی میں دیوالا عمل کو شروع کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے اجازت مانگی ہے۔ بنچ نے سینئر وکیل رنجیت کمار کے اصرار پر بھی غور کیا۔انہوں نے کہا کہ جے اے ایل کی آزاد ڈائریکٹرز کو ان کی بڑھتی عمر کے پیش نظر کیس میں روزانہ ہونے والی سماعت کے دوران ذاتی طور پر چھوٹ دی جانی چاہیے۔رنجیت کمار کمپنی کے ڈائریکٹرز کے وکیل ہیں۔بنچ نے ڈائریکٹرز کو انفرادی طور پر چھوٹ دیتے ہوئے اپنے پہلے حکم کو دہرایا۔عدالت نے کہا کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی ڈائریکٹر ملک سے باہر نہیں جائے گا اور نہ ہی وہ اپنی جائیداد کو فروخت کریگا یا اس میں کسی تیسری پارٹی کو شامل کریں گے۔